پاکپتن (حسن بخاری سے) قبضہ مافیا کا قبر ستانوں کی اراضی پر قبضہ حکومت کیلئے سوالیہ نشان ہے اور ریاستی ادارے بھی ان کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں، ضلع بھر کے قبر ستان مسائل کی آمجگاہ بن گئے، قبرستانوں میں ملنگ اور معزز لوگ خواتین سمیت تاش پر جوا بھی لگا کر کھیلتے ہیں، اور جناز گاہیں کھنڈرات کے منظر پیش کرنے لگیں، چھتوں اور وضو خانوں کے بغیرجناز گاہیں علاقائی مسائل کے حل نہ ہونے کی حقیقی طور پر عکاسی کر رہی ہیں، تفصیلات کے مطابق شہد نگر قبر ستان، چراغ شاہ قبر ستان، قبر ستان پیر سلطان،محلہ پیر کریاں قبر ستان کے علاوہ ضلع بھرکے قبر ستان میں قبضہ مافیا نے اپنے مضبوط شکنجہ کسا ہوا ہے، ایک قبر کی نشاندہی کرکے پانچ سے دس مرلے کی اراضی پر قبضہ کرکے عمارات تعمیر کر لی ہیں،نیز قبر ستان متولیوں اور منشیات فروشوں کے ڈیرے بن چکے ہیں،ان ہی قبر ستانو ں میں جنا ز گاہیں نام کی ہیں، جناز گاہوں میں نہ تو وضو خانے اور نہ ہی چھتیں ہیں اور تیز دھوپ میں لوگ اپنے پیاروں کی نماز جنازہ کی ادائیگی کیلئے آتے ہیں، جناز گاہو ں میں چھتیں نہ ہونے گرمی کی شدت سے نڈھا ل ہوکر نیم بے ہوشی کی حالت میں واپس گھر جاتے ہیں،وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بز دار، کمشنر ساہیوال ڈوثیرن عارف انور بلوچ، ڈپٹی کمشنر احمد کمال مان سے اس سلسلہ میں اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے اور قبر ستانوں کو سہولیات سے آراستہ کرنے کی استدعا کی ہے۔