اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن تبادلے سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے احسن جمیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہوتے کون ہیں تبادلے کی ہدایت دینے والےاحسن جمیل نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ میں بچوں کاگارڈین ہوں۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بچوں کے ماماہیں؟ان کے والدزندہ ہیں۔احسن جمیل نے کہا کہ میں بچوں کاکفیل ہوں،ان کی وجہ سے ایکشن لیا۔ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے عدالت کو بتایا کہ احسن جمیل نے کہاآپ کوپیغام دیالیکن آپ نے عمل نہیں کیا،کہاگیاآپ ان کے ڈیرے پرجاکرمعافی مانگیں۔ چیف جسٹس نے احسن جمیل سے استفسارکیا کہ آپ وزیراعلیٰ کے دفترمیں کیاکررہے تھے؟،آپ کاوزیراعلیٰ سے کیاتعلق ہے احسن جمیل نے کہا کہ مبشریٰ مانیکا 5 روزسے پیدل چل کرجارہی تھی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ افریقہ سے فون کرائے جارہے ہیں،آپ سمجھتے ہیں سیاسی اثرکی وجہ سے پولیس کوذلیل کرالیں گےچیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ پولیس پردباؤڈالنے پرکیامقدمہ بنتاہے؟آئی جی پنجاب نے کہا کہ احسن جمیل گجرکیخلاف پولیس پردباؤڈالنے کامقدمہ بنتاہے،احسن جمیل گجرکیخلاف کارروائی کریں گے۔چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے ادارے کوذلیل کرادیا،انسپکٹرجنرل آف پولیس نے اپنے ادارے کامورال گرادیا۔وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ عثمان بزدارنے کہاوہ قبائلی علاقے سے ہیں،جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قبائلی علاقہ نہیں ہے،یہ پنجاب ہے ۔