لاہور : لاہور سمیت پنجاب سے ضلعی، تحصیل چیئرمینوں سمیت 1200 سے زائد بلدیاتی نمائندے مسلم لیگ(ن) کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے تیار ہیں،پارٹی قیادت سے رابطے ہوچکے ، اسی ماہ شمولیت کا اعلان کردینگے ،اختیارات کیلئے ن لیگ کے دور حکومت میں احتجاج کرنے والے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کی بڑی تعداد بھی ان میں شامل ہے ۔  مطابق تحریک انصاف کی طرف سے نیا بلدیاتی نظام لانے اور متوقع بلدیا تی انتخابات کے پیش نظر بلدیاتی نمائندے ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کے ایک اجلاس میں باقاعدہ اس پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا کیونکہ اس اجلاس میں متعدد ارکان اسمبلی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہمارے بلدیاتی نمائندے ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بننے پر اب تو بلدیاتی نمائندوں نے ہمارے اجلاسوں میں آ نا بھی چھوڑ دیا ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جس کی حکومت ہے ہم اس کا ساتھ دیں گے کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت نے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کا اعلان کیا ہے اور کے پی کے فارمولا یہاں لانے کا کہا ہے۔ اس فارمولے میں بلدیاتی نمائندے زیادہ طاقتور ہیں تو ہم کیوں نہ ان کا ساتھ دیں۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی اعلیٰ قیادت اس پر سخت پریشان ہے اور چند رہنمائوں کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ بلدیاتی نمائندوں کو روکنے کیلئے کچھ کریں۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کے مضبوط شہروں لاہور ، گوجرانوالہ ، راولپنڈی ، گجرات ، اوکاڑہ ساہیوال ، قصور سے بھی بڑی تعداد میں ن لیگ کے بلدیاتی نمائندوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے ،جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 80 فیصد سے زائد بلدیاتی نمائندے ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں چلے جائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں تحریک انصاف کے اہم ذمہ داران بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ صوبائی وزیر بلدیات عبد العلیم خان سے بھی اہم بلدیاتی نمائندوں کے ذمہ داران ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ پنجاب سے بلدیاتی نمائندوں کے ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں جانے سے ن لیگ کو سیاسی طور پر الیکشن کی ہار سے بھی بڑا دھچکہ لگے گا۔