لاہور:گلوکارہ مہک علی نے کہا ہے کہ اپنی کامیابیوں کو ہمیشہ اپنے پرستاروں کے نام کیا ہے۔مہک علی نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ نیا گیت ’’لاہور تیرے تے مردا‘‘ کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ دیگرمیڈیمز کوپسند کرنے والوں نے سراہا اورمیری تعریف کی، جومیرے نزدیک سب سے بڑا ایوارڈ اوراعزاز ہے۔ ہمایوں سعید کی نئی فلم ’’جوانی پھرنہیں آنی ٹو‘‘ میں شامل گیت اب تک سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا گیت بن چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر گانا ٹاپ رینکنگ میں شامل ہوگیاہے۔گلوکارہ نے کہا کہ2مرتبہ مجھے بہترین گلوکارہ کیلیے نامزد کیا گیا لیکن جس کو ایوارڈ ملنا ہوتا ہے، اس کے بارے میں پہلے سے ہی سب کوپتہ چل جاتا ہے۔ جہاں تک بات ایوارڈز کی ہے تومیں آج سب کوبتانا چاہتی ہوں کہ میرا تعلق ننکانہ سے ہے، بچپن سے گلوکاری کا شوق تھا کچھ سال قبل ٹیلنٹ ہنٹ میوزک پروگرام میں حصہ لیا جس میں، میں واحد لڑکی تھی،جس نے اپنی صلاحیتوں کے بل پریہ پہلی پوزیشن حاصل کی مگرمیں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ایسے بھی آئے گا، جب مجھے اپنے ٹیلنٹ کے بل پرپہچان ملے گی۔مہک علی نے بتایا کہ میں نے میوزک سیکھنے کا فیصلہ کیا تواس کے بعد مجھے ریڈیو میں گانے کا موقع ملا جس کے بعد میں باقاعدہ گلوکاری سیکھتے ہوئے اپنے فنی کیرئیر میں ابتک 15وڈیو سونگ تیار کرچکی ہوں، جو مختلف نجی چینلز اور سوشل میڈیا پرموجود ہیں ۔گلوکارہ نے کہا کہ بطور پلے بیک سنگر فلم ’’دیکھ مگر پیار سے ‘‘ میں شامل گانا ’’ کالا ڈوریا ‘‘ تھا جس کو 2015میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ سرچ اور دیکھا گیا تھا اس گانے پر مجھے مختلف ایوارڈز میں بہترین گلوکارہ کی کیٹگیری کیلیے نامزد کی گیا تھا، اب ہمایوں سعید کی نئی فلم جوانی پھر نہیں آنی ٹو میں شامل گانا لاہور تیرے تے مردا اس وقت سپر ہٹ گانا بن چکا ہے جو ہر زبان زدعام ہے اور پہلی سنگر ہوں جس کو ریڈیو مرچی بالی وڈ سے ایوارڈ نامزدگی کیلیے منتخب کیا گیا۔مہک علی نے کہا کہ میں امریکا،یورپ اوردبئی سمیت دنیا کے بیشترممالک میں پرفارم کرچکی ہوں ، لیکن جوخوشی مجھے اپنے ملک میں پرفارم کرکے محسوس ہوتی ہے، وہ کہیں اورنہیں۔ انھوں نے کہا میں پہلی صوفی فوک گلوکارہ ہوں جو صوفیانہ کلام کو فوک اور جدید انداز میں پیش کر رہی ہوں ، صوفیانہ کلام گا کرمجھے روحانی سکون ملتا ہے۔