اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ کے پاکستان کی زمین دہشت گردوں کے استعما ل کے حوالے سے بیان کو مسترد کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج وزارت خارجہ میں وزیراعظم عمران خان آئے، ان کوخارجہ پالیسی پرتفصیلی بریفنگ دی گئی،وزیراعظم کوچیلنجز کے بارے میں آگاہ کیا،میں خود سات سال بعد وزارت خارجہ میں آیا ہوں،دیکھ رہا ہوں یہاںدنیا بدل چکی ہے،ہم نے وزیر اعظم کو کہا کہ پاکستان کا مو¿قف یکسوئی سے دنیا کے سامنے رکھا جائے گا ، ہم پاکستان کی مو¿ثراور ٹھوس انداز میں ترجمانی کریں گے ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پورے اعتماد سے یہ بات کر رہا ہوں کہ امریکی دعوٰی حقیقت کے برعکس ہے،کچھ دیرمیں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل دفترخارجہ تشریف لارہے ہیں،ان سے پاکستان کے مو¿قف کے حوالے سے بات کی جائے گی،پاکستانی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کی بات حقیقت کے برعکس ہے،انہوں نے کہ کلبھوشن کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہیہ نہیں کہا کہ کلبھوشن کا کیس عالمی عدالت میں جیت جائیں گے،میرا بیان تھا کہ کلبھوشن کے معاملے میں ہمارا کیس مضبوط اورٹھوس شواہد ہیں،پاکستان مذاکرات کرنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ وقت بدل گیا ہے اور اب پاکستان مغرب کا محبوب نہیں ہے،ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں تعطل تھا اور ہے، لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے، وزیراعظم نے بھی اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایک قدم بڑھو گے تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی،بھارتی وزیرخارجہ کی جانب سے مبارکبادکاخط موصول ہوا،جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،افغانستان میں امن اور استحکام ہمارے امن اور استحکام کے لیے ضروری ہےوزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن اوراستحکام ہمارے امن اوراستحکام کے لیے ضروری ہے،ایران پاکستان کا پڑوسی بھی ہے ،ہمارے ساتھ ان کا بارڈر کا بہت بڑا حصہ ہے، امریکا اور ایران کی حالیہ کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں،مجھے ایران کے وزیر خارجہ کا فون آیا اور وہ پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے ہیں ،وہ 30 اور 31 تاریخ کے درمیان میں پاکستان آئیں گے اورچین کے وزیرخارجہ 8 اور9 ستمبرکوپاکستان تشریف لارہے ہیں، میں آج ان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کی اہمیت سے سب واقف ہیں اس میں اتار چڑھاو¿ آتا رہتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ آج کے حالات میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو واپس اس سطح پر لانے کے لئے امریکہ کی افغانستان میں ضروریات کو سمجھنا چاہئے ،ہم اگر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کا ساتھ دینا ہو گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سے آج کل ویسے تعلقات نہیں جیسے پہلے تھے،امریکی سیکریٹری خارجہ کی 5 ستمبرکواسلام آباد آمد متوقع ہے،سمجھتے ہیں امریکی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات اہمیت اختیارکرسکتی ہے،امریکی حکام کوپاکستان کے تقاضے سمجھانے ہونگے،امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمدکا منتظر ہوں ،سارک اہم فورم ہے جوفائدہ اٹھانا چاہیے وہ نہیں اٹھاسکے،یورپی یونین کی اہمیت سے انکارنہیں کیا جاسکتا،ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کانام بلیک لسٹ میں آئے، ہمیں دیکھنا ہوگادنیامیں آگے کیسے بڑھنا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی میں امن وامان ترجیحات میں شامل ہے، ہم افغانستان کے استحکام میں اپناکرداراداکرسکتے ہیں، افغان صدراشرف غنی نے مثبت اشارہ دیا،سی پیک کوآج کابینہ اجلاس میں زیربحث لایاگیا،عالمی سطح پرایک بارپھرطاقتوں کی تقسیم کاعمل جاری ہے، سارک اہم فورم ہے،وہ فائدہ نہیں اٹھاسکے جواٹھاناچاہیے تھا۔انہوں نے وزیر اعظم کی سادگی کے بارے بیان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری اوروزیراعظم کی خواہش پرفرسٹ کلاس ٹریول نہیں کروں گا،غیر ملکی دورے فرسٹ کلاس کے بجائے بز نس کلاس میں کروں گا،غیرضروری بیرونی دورے نہیں ہونگے، اگرکوئی دورہ پاکستان کے مفاد میں ہوگا تو وہی دورہ ہوگا، کوئی وزیریاسیکریٹری وزیراعظم کی اجازت کے بغیربیرون ملک سفرنہیں کرسکے گا۔شاہ محمو د قریشی نے کہا کہ امریکی سیکریٹری خارجہ اور وزیراعظم کی ٹیلی فونک گفتگومیںپاکستان کاموقف پیش کیا گیا،امریکی سیکریٹری خارجہ نے فون پروزیراعظم کو کہا وہ نئی حکومت کی ساتھ تعمیری تعلقات چاہتے ہیں، امریکی محکمہ خارجہ کا ٹیلی فون کال پربیان حقیقت کے برعکس ہے بدقسمتی سے پاکستان برآمدات کے اہداف پورے نہیں کرسکا،پاکستان گرے لسٹ میں ہے اورپہلے بھی رہا ہے،توقع کی جارہی ہے کہ ہم گرے لسٹ سے نکلیں۔