اسلام آباد: صدر مملکت ممنون حسین 8 ستمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور آئین کے مطابق صدر کی ریٹائرمنٹ سے 30 روز پہلے نیا انتخاب ضروری ہے، تاہم قومی و صوبائی اسمبلیاں غیر فعال ہونے کے باعث صدارتی انتخابات تاخیر کا شکار ہوچکے ہیں اور اب نئے صدر کا انتخاب اگست کے آخر میں یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ آئین کا آرٹیکل 41 کہتا ہے کہ نئے صدر کا انتخاب اس کی مدت پوری ہونے سے 30 روز پہلے ہونا ضروری ہے اور یہ انتخاب مدت پوری ہونے سے 60 روز پہلے بھی نہیں کرایا جا سکتا تھا کیونکہ اس دوران عام انتخابات ہو رہے تھے اور صدارتی الیکٹورل کالج یعنی قومی اور صوبائی اسمبلیاں موجود ہی نہیں تھیں۔عام انتخابات ہو رہے ہوں تو آئین ایک اور آپشن دیتا ہے کہ پولنگ کی تاریخ کے ٹھیک ایک ماہ بعد صدارتی انتخاب کرا دیا جائے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اس آئینی پیچیدگی کے باعث آرٹیکل 254 لاگو ہوگا، جس کے تحت عام انتخابات کی پولنگ (25 جولائی) کے روز سے ایک ماہ میں صدر کے انتخاب مکمل کروانا ہے جس کے تحت صدر کے انتخاب کی تاریخ 25 اگست بنتی ہے، لیکن اس وقت یہ بھی ممکن نظر نہیں آ رہا۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کہتے ہیں کہ نئی اسمبلیاں 10 اگست تک فعال نہیں ہو سکیں گی، صدر کے انتخاب کا شیڈول کم از کم 15 روز کا ہوتا ہے اور اس دوران 22 سے 24 اگست تک عید الاضحیٰ کی 3 چھٹیاں بھی آرہی ہیں، یوں نئے صدر مملکت کا انتخاب اگست کے آخر میں یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں ممکن ہو سکے گا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخابات کا الیکٹرول رول مکمل ہونے کے فوری بعد شیڈول جاری کرنے پر غور جاری ہے اور شیڈول جاری ہونے کے 15 ویں روز صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کروائی جائے گی، جس کے دوران قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان ووٹ ڈال سکیں گے۔